بےگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ


حامدًا ومصلِّیًا امّا بعدُ
حضراتِ قارئینِ کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ!
تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں بھلی (اچھی) لگیں!
           مگر ہائے افسوس کہ ہم بطورِ عمل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ نکاح کراؤ ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں
یعنی نکاح وشادی ہونا ہے زید کی اور اس کے لئے زوجہ (بیوی) پسند کریں گے اس کے اعزہ واقارب (اس کے رشتہ دار) وہ بھی مرد حضرات!  العیاذُ باللّہِ
        خوب جان لیں کہ جس شخص کو شادی کرنا ہے اس کے علاوہ کسی بھی مرد کے لئے کسی بچی یا عورت کو دیکھنا اور پسند کرنا مذہبِ اسلام میں حرام ہے!
اور ہم کس قدر بےغیرت اور بےشرم لوگ ہیں کہ اپنی بیٹی یا بہن کو غیر محارم مرد حضرات کے روبرو بیٹھا کر معائنہ کراتے ہیں
اور بچی دیکھنے اور پسند کرنے کے واسطے جانے والے مرد حضرات نے تو گویا بے شرمی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ کسی کی بہن یا بیٹی کو اُٹھاکر بیٹھاکر، چلاکر پِھراکر، آنکھیں پھاڑے یوں گھور رہے ہوتے ہیں جیسے کسی کے لئے دلہن نہیں بلکہ اپنے لئے کوئی مویشی خرید رہے ہوں مزید برآں مفت میں مختلف انواع واقسام نوش فرماکر بھی اہلِ خانہ کے انتظامات میں نقص وکمی نکال کر مذاق اڑاتے ہیں اور پھرڈکارتے ہوئے بےشرموں کی طرح اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو لیتے ہیں شاید ایسے ہی لوگوں کے متعلق کسی نے کہا ہے کہ 

'' بےگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ''

کبھی ہم اپنی بہن بیٹیوں سے پوچھیں یا ان کے دلوں کو ٹٹول کر دیکھیں کہ ان پر کیا بیتتی (گزرتی) ہے      

میرے پیارے اسلامی بھائیوں!    ہم نے یہ کیسا سماج وسوسائٹی بنا رکھا ہے کہ جو کام کرنے کے نہیں ہیں وہ فیشن بنتے جارہے ہیں اور جو کرنے کے ہیں وہ عیب شمار کئے جارہے ہیں    اسی فریب اور دھوکہ سے بچانے کیلئے نبیِ کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے متعدد نکاح کیا!  کیا کوئی بھی شخص یہ بتا سکتا ہے کہ آقائے مدنی صلی اللّہ علیہ وسلم نے کہیں بھی شادی کرنے سے قبل کسی دوست یا رشتہ دار کو اپنے لئے بیوی دیکھنے یا پسند کرنے کے لئے بھیجا ہو بلکہ حضورِ پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بچی یا عورت سے تم شادی کرنا چاہتے ہو اگر گنجائش ہو تو ایک نظر دیکھ لو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نوشہ یعنی اس شخص کے لئے ہے جو شادی کرنا چاہتا ہے نہ کہ اس کے اعزہ واقارب کے لئے!

نیز آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ مبارک کسی بچی یا عورت کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے یا کسی کا دل دُکھانے کے لئے نہیں بلکہ یہ ارشادِ گرامی دل میں آتشِ محبت بھڑکاکر ایک پاکیزہ اور خوشگوار ازدواجی زندگی حاصل کرنے کے لئے ہے!

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

النکاحُ مِنْ سُنتِی

نکاح (شادی) میری سنت یعنی میرا طریقہ ہے

نیز فرمایا

فمنْ رّغِب عنْ سُنّتی فلیس مِنّی

جو شخص میری سنت یعنی میرے طریقے سے اِعراض کرےگا وہ مجھ میں سے نہیں ہے یعنی ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے!

نکاح وشادی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت ہے اور اللہ رب العزت نے اس شادی خانہ آبادی کے اندر بڑی برکتیں اور رحمتیں رکھی ہے اب آپ خود ہی بتائیں کہ اس عظیم سنت جس کو مکمل الایمان بھی کہا گیا ہے اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے طریقوں کو چھوڑ کر اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکموں کو توڑ کر کرتے ہیں تو بھلا کیونکر اس کی برکتیں اور رحمتیں ہمیں حاصل ہوں!

نماز جو ایک اہم عبادت ہے اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹ کر غیروں کے طریقے کے مطابق ادا کرتا ہے

مثلاً زید مسجد جاکر تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ہاتھوں کو سینہ تلے باندھنے کے بجائے ہندؤں کی طرح دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر نماز ادا کرتا ہے تو کیا اس کی نماز قبول ہوگی؟

ایسے شخص کو ہمارا سماج اور ہمارے سماج کے لوگ کیا کہیں گے کہ اس کی عقل ماری گئی ہے یہ بندہ پاگل ہے.        تو پھر کیا وہ شخص بھی پاگل نہیں ہے جو اپنی شادی طریقہِ نبوی کو چھوڑ کر غیر قوموں کے مطابق وموافق کررہا ہے؟

نکاح وشادی بھی تو ایک عبادت ہے تو اگر ہم یہ عبادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو چھوڑ کر غیروں کے موافق کریں گے تو پھر ہماری یہ عبادت بھلا کیسے قبول ہوگی؟ اور اس طرح کیا اس کی رحمتیں اور برکتیں ہمیں حاصل ہوسکتی ہیں؟ 

ظاہر سی بات ہے کہ نہیں!

تو پھر آئیے ہم سب مل کر سچی اور پکی توبہ کریں کہ اس گناہِ عظیم سے ہم خود بھی بچیں گے اور حتی المقدور ہم اپنے اپنوں کو بھی بچائیں گے ان شآء العزیز

اللہ ہمیں سنتوں بھری زندگی نصیب فرمائے (آمین)

طالبِ دعا : رضوان اللّہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

تبصرے

  1. Bahut khoob
    Rabbe karem tamaam ummate muslma ko amal karne ki taufeq marahmat farmaye Ameen

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشاءاللہ مضمون تو خوب ہے مگر اس پر عمل مشکل ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ نے جن حالات میں اور جس عمر میں شادیاں کی ہیں اس عمر میں اس حالت میں آج کل شادیاں نہیں ہورہی ہیں ظاہر بات ہے آج لڑکے یا لڑکی کی شادی بیس پچیس سال کی عمر میں ہوجارہی ہے اور اس عمر میں بچے بچیاں اپنی زندگی کے دوست کے طور پر انتخاب کرنے میں راسخ اور مضبوط نہیں بلکہ مذبذب ہوتے ہیں اچھے برے کی مکمل تمیز مشکل ہوتی ہے ایسے حالات میں خود لڑکے یا لڑکی کا ایک دوسرے کو دیکھ کر نکاح کرنا پائدار نہیں لگتا
    دوسری بات یہ کہ آج کل لڑکے لڑکیاں اپنے والدین سے الگ نہیں ہوتے بلکہ ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو تو شادی میں والدین کی رضامندی بہر حال ضروری ہے ورنہ گھر برباد ہوگا اور زندگی تلخ ہوگی اور نجی پریشانیاں آسکتی ہیں اس لئے اس طرح لکھنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے عمل کو ذلیل بنانا بظاہر اتفاق نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی کیفیت الگ الگ ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کی رائے بھی لی جائے مگر مکمل اختیار بہتر نہیں اللہ رحم کرے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ!

      جناب عالی: آپ نے مضمون کو بغور نہیں پڑھا ہے ورنہ آپ کو یہ مغالطہ شاید نہیں ہوتا
      کیونکہ اندرونِ مضمون اشارۃً بھی کہیں پر یہ بات نہیں لکھی گئی ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ کر ولی وسرپرست کی رضامندی کے بےغیر شادی کریں

      بلکہ اندرونِ مضمون لڑکی کو دیکھنے اور دِکھانے کا وہ غیر شرعی رسم جو ہمارے سماج وسوسائٹی میں بنا ہوا ہے اس رسمِ قبیح اور غلط طریقے کی تردید کی گئی ہے

      والسلام مع الاحترام

      حذف کریں
  3. اور بطور مثال کے سینہ پر ہاتھ باندھنے والی بات نماز میں نبی کی سنت ظاہر کرنا مناسب نہیں بلکہ ناف سے نیچے یہ مثال لکھ سکتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حضرت:

      مضمون میں سینہ تلے یعنی سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنا لکھا ہے
      ناف اور ناف کے نیچے کا حصہ تحت الصدر یعنی سینہ تلے ہی ہوتا ہے نہ کہ فوق الصدر

      حذف کریں
  4. Masha allah..
    Allah ham sab musalmanon ko
    Is baat par amal karne ki taufeequ ata farmaye

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟