انٹرنیشنل فقراء

 


   ﷽  

الحمد للہ وحدہ والصلوة والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین امابعد

محترم قارئینِ کرام

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

        اللّٰہ رب العزت کا ارشاد ہےقل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی

کہہ دیجئے (میرے بندوں سے) اگر تم اللّٰہ سے محبت کرتے ہو تو میری (محمدﷺ کی) اتباع کرو

خرد  نے کہہ بھی دیا   لاالٰہ تو کیا حاصل:

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں:

   ہم کلمۂ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللّه  کے پڑھنے والے ہیں مگر ہم کلمہ اور ایمان واسلام والی زندگی کو چھوڑ کر اللّٰہ کے دشمن  (کفار ومشرکین) والی زندگی اپنائے ہوئے ہیں اللّٰہ رب العزت نے اپنے حبیب محمد عربیﷺ کو کامل ومکمل اسلام اور ضابطۂ حیات دے کر بھیجا اور پھر فرمایالقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة تمہارے لئے رسول اللہﷺ بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ اللّٰہ نے جس کے واسطے دنیا بنائی اور جس کے لئے جنت سجائی آج اس ذاتِ اقدسؐ کی  زندگی ہمیں اچھی نہیں لگتی ہے جبکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی وکامرانی اللّٰہ نے اسی ذاتِ اقدسﷺ کی اتباع اور پیروی میں رکھی ہے

         نبیﷺ کا فرمان ہے (النکاح من سنتی) نکاح (شادی) میری سنت ہے اور آپؐ نے ایک دو نہیں بلکہ گیارہ گیارہ شادیاں کرکے اپنی امت کو یہ پیغام دیا کہ اس عبادت (شادی) کو کس سادگی کے ساتھ انجام دینا ہے            مگر افسوس کہ آج کا نام نہاد مسلمان بھی نکاح وشادی کو اس قدر مشکل بنادیا ہے کہ غریب باپ کے دن کا چین وسکون اور راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں            داعئ اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب مدظلہ العالیہ   لکھتے ہیں کہ دربھنگہ سے دو بہنوں کا مجھے فون آیا کہ حضرت ہم دو بہنیں ہیں اور ہماری شادی نہیں ہوپارہی ہے جبکہ الحمدللہ  ہم دونوں بہنیں تعلیم یافتہ اور خوبصورت بھی ہیں مہمان آتے ہیں ہمیں دیکھتے ہی پھولے نہیں سماتے ہیں لیکن واپس جانے کے بعد انکار کردیتے ہیں کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں ان کو بشکل جہیز بھیک دینے کی حیثیت ہمارے ابو کے پاس نہیں ہےاپنی سسکیوں پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کئی ماہ سے ہمارے ابو امی راتوں کو سوئے نہیں ہیں ان کے دن کا چین وسکون اور راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں بڑی بہن کہنے لگی کہ حضرت کل رات جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ہمارے ابو مصلیٰ پر بیٹھے ہچکیوں اور سسکیوں کے ساتھ رورہے ہیں اور اللّٰہ کے حضور شکوے اور شکایتیں کررہے ہیں جب میں کچھ قریب ہوئی تو سنا کہ ابو بار بار کہہ رہے تھے کہ باری الہیٰ تو نے تو بیٹیوں کو رحمت بنایا ہے مگر آج میری بیٹیاں مجھ پر بوجھ بن گئی ہیں میرے مالک تو مجھ غریب پر رحم فرمااس کے بعد ماہئِ بےآب کی طرح بلک بلک کر رونے لگے

        حضرت! پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں کیا ہم دونوں بہنیں خودکشی کرسکتی ہیں؟

       کیا ہمارے لئے خودکشی کرنا اب بھی جائز نہیں؟


        احقر بڑے ہی احترام سے اپنی مسلم برادری کے انٹرنیشنل فقیروں سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اگر آپ میں یا آپ کے بیٹے میں کسی کی بیٹی یا بہن کےنان ونفقہ اور ضروریاتِ زندگی کے سامان مہیا کرنے کی حیثیت اور گنجائش نہیں ہے تو پھر آپ شادی ہی کیوں کرتے ہیں؟

      آپ جیسے فقیروں کے لئے ہی شریعت کا حکم ہے کہ ایسے لوگ روزے رکھیں

میرے اسلامی بھائیوں:  ہم  نے یہ کیسا سماج اور سوسائٹی بنا رکھا ہے؟     جس میں نکاح اور شادی وبیاہ جیسی عبادت اتنی مشکل ہوگئی ہے کہ ہماری باپردہ باحیا اور باغیرت بہنوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کردیا ہے

      غیروں کی یہ رسمِ تلک وجہیز نے مسلم سماج وسوسائٹی میں بھی اس قدر جڑ پکڑ رکھا ہے کہ اس رسمِ ملعون کے بغیر شادی وبیاہ کرنا نہایت ہی مشکل ہوگیا ہے


حضرات قارئینِ کرام:    آئیے اس رسمِ ملعون سے آج ہم سچی پکی توبہ کرلیں ورنہ دنیوی اور اخروی بربادی مقدر ہے        کیونکہ نکاح وشادی کے ذریعہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اس کے ذریعہ ایک نئی نسل تشکیل پاتی ہے        پھر آپ ہی بتائیں جس زندگی اور تشکیلِ نسل کا آغاز اللّٰہ تبارک وتعالٰی کے حکموں کو توڑ کر نبیِ کریمﷺ کی سنتوں کو چھوڑ کر کیا گیا ہو بھلا وہ آباد اور کامیاب کیسے ہوسکتی ہے؟

    یہی وجہ ہے کہ شادی کے چند ماہ یا چند سال بعد ہی زوجین کی ازدواجی زندگی میں اس قدر تناؤ اور کھٹاس پیدا ہوجاتی ہے کہ دونوں کی زندگی جہنم کدہ بن جاتی ہے یا پھر طلاق ہوجاتی ہے

اللّٰہ تعالٰی ہمیں شریعت وسنت کے ساتھ ساتھ خوشحال اور عافیت والی زندگی نصیب فرمائے (آمین)

طالبِ دعا!   رضوان اللّٰہ

خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟