پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے

                                     ﷽


حامدا ومصلیا امابعد:
محترم قارئینِ کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
     اللّٰہ رب العزت نے دینِ اسلام کو دینِ فطرت بنایا ہے جو بندۂ خدا فطرت سے بغاوت کرےگا وہ اللّٰہ رب العالمین کی خیرات وبرکات سے محروم,  حیران وپریشان اور ناکام ونامراد ہوگا
       دینِ اسلام نے قوم کی ماؤں, بہنوں اور بیٹیوں کو پردہ کا حکم دیا اور پردہ عورتوں کا فطری تقاضا بھی ہے:   لیکن افسوس کہ بعضے حواؑ کی فریب خوردہ بیٹیاں یہ کہتے ہوئے اللّٰہ کے اس حکم کا انکار کردیتی ہیں کہ پردہ تو ذہن ودماغ کا ہوتا ہے یعنی ذہن پاک وصاف ہونا چاہئے اور اگر ذہن پاک وصاف نہیں ہے ان میں میل اور گندگی ہے تو پھر پردے کا کوئی فائدہ نہیں: العیاذ بالله
     احقر قوم کی ماؤں, بہنوں اور بیٹیوں سے عرض گزار ہے کہ آپ کا ذہن بنتِ محمدﷺ (حضرتِ فاطمہؓ) سے زیادہ پاک وصاف نہیں ہوگا مگر پردے کا حکم ان کو بھی تھا
 ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں
جن کی شرط تھی کہ شادی اس شخص سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا
ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے راضی ہوگیا پھر
دونوں کی شادی ہوگئی وقت گذرتا رہا یہاں تک کہ ایک بیٹا پیدا ہوا
ایک دن شوہر نے کہا کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں  کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت ضائع ہوتا ہے تم مجھے کھیتوں میں ہی کھانا پہنچادیا کرو
بیوی راضی ہوگئی
وقت گذرتا رہا یہاں تک کہ ایک اور بیٹا پیدا ہوا
جس پر شوہر نے کہا کہ اب گذارہ مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا
یوں وہ خاتون مکمل پردے سے نیم پردے تک پہنچ گئی
اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آیا
وقت گذرتا رہا یہاں تک اولاد جوان ہوگئی
ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگا
بیوی نے سبب پوچھا؟
تو کہنے لگا کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا؟ ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا؟
زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے
اس خاتون نے کہا تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں
شوہر کمرے میں چھپ گیا
عورت اپنے بال بکھیرے اور رونا پیٹنا شروع کردیا
پہلے بڑا بیٹا آیا اور اس نے رونے کا سبب پوچھا؟
کہنے لگی کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے
بڑا بیٹا ماں کو سمجھانے لگا کہ اگر ابو نے مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال بھی تو رکھتے ہیں
وہ سمجھا بجھا کر چلا گیا
عورت نے پھر سے رونے کی ایکٹنگ شروع کردیا اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتائی کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے
منجھلا بیٹا کو غصہ آیا اور اس نے باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو چپ کرا کر چلا گیا
آخر کار عورت نے یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کیا
چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا ہاتھ میں لے کر کہتا ہے کہ ابھی میں باپ کی خبر لیتا ہوں
پھر اس خاتون نے شوہر کو بلا کر کہا کہ پہلا بیٹا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا
تو اس نے تیرا پردہ رکھا
دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا
تو تیری آدھی لاج رکھ لی
جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں پیدا ہوا
تو وہ مکمل طور پر تیری عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے

   قوم کی ماؤں, بہنوں اور بیٹیوں کو اس حکایت سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور بغاوت فطرت سے توبہ کرنی چاہئے کہ آپﷺ کی ازواجِ مطہرات جو امت کی مائیں تھیں پردے کا حکم ان کو بھی تھا
ایک مرتبہ آپؐ حضرتِ ام سلمہؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ آپؐ کی خدمت میں ایک نابینا صحابی تشریف لے آئے حضورِ پرنورﷺ نے کہا کہ ام سلمہؓ پردہ کرو تو آپؓ نے کہا یارسول اللّٰہ ﷺ یہ تو نابینا ہیں دیکھ نہیں سکتے تو آپؐ نے فرمایا کہ ام سلمہؓ کیا تم بھی نابینا ہو تم تو دیکھ سکتی ہو   اللّٰہ اکبر کبیرا
   اللّٰہ ہمیں نیکوکاری اور پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ اپنی مرضیات والی زندگی نصیب فرمائے (آمین)


طالبِ دعا!     رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟