ماں باپ ایک انمول نعمت ہیں

 

                                 ﷽ 

ألحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لانبي بعده وعلى آله وصحبه أجمعين أمابعد!

محترم قارئینِ کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

  دنیوی نعمتوں میں والدین ایک بہت بڑی نعمت ہیں  قرآنِ کریم میں اللّٰہ رب العزت نے اپنے ذکر کے ساتھ والدین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا  وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا (القرآن)

تمہارا رب ( اللّٰہ ) کا حکم ہے کہ فقط اسی کی عبادت کرو'  اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ( اچھا برتاؤ ) کرو!  اور جب تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بوڑھاپے کی عمر کو پہونچ جائیں تو ان کو اف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور تم ان سے نرم لہجہ میں بات کرو اور ان کے سامنے سراپا عاجز بن جاؤ ( اپنے آپ کو ان کے سامنے بچھادو ) اور ان کے واسطے اللّٰہ سے دعائیں کرو کہ باری الہیٰ ان دونوں پر رحم فرما جیسے بچپن میں انہوں نے مجھ پر رحم کیا!

     رسولِ مقبولﷺ نے فرمایا رضاالرب فى رضاالوالد وسخط الرب فى سخط الوالد (الحدیث)

اللّٰہ کی خوشنودی ماں باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللّٰہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے یعنی والدین خوش تو اللّٰہ بھی خوش اور اگر والدین ناراض ہوں تو اللّٰہ بھی ناراض ہوجاتا ہے

ایک مرتبہ آقائے مدنیﷺ نے خطبۂ جمعہ دینے کے لئے ممبر پر تشریف لے جاتے ہوئے خلافِ معمول آپؐ نے تین دفعہ آمین کہا  صحابۂ کرام (رضوان اللّٰہ تعالٰی علیھم اجمعین) عرض گزار ہوئے یارسول اللّٰہ(ﷺ) آج ممبر پر تشریف لے جاتے ہوئے آپؐ نے بآوازِ بلند تین مرتبہ آمین کہا ہے؟   آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا کہ جبرئیلؑ آئے تھے اور انہوں نے تین بددعائیں کی ہے اور تینوں پر مجھے آمین کہنے کے لئے کہا :

     پہلی بددعا:  ہلاک وبرباد ہو وہ شخص جو ماہِ رمضان پاکر بھی اپنی بخشش نہ کرالے:  میں نے کہا آمین: 

دوسری بددعا:  ہلاک وبرباد ہو وہ شخص جس کے سامنے آپؐ کا تذکرہ ہو اور وہ آپؐ پر درودوسلام نہ بھیجے:  میں نے کہا آمین:

تیسری بددعا:   ہلاک وبرباد ہو وہ شخص جس کے ماں باپ بوڑھے ہوں اور وہ ان کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہ بنالے:  میں نے کہا آمین: 

    اولاً تو حضرتِ جبرئیلؑ کی بددعا ہی ہلاکت وبربادی کے لئے کافی تھی لیکن ان بددعاؤں پر آپﷺ سے آمین کہلوانا اور آپؐ کا آمین کہنا یہ ان بددعاؤں کو کس قدر مستحکم ومضبوط اور بھاری بنا دیا ہے وہ ظاہر ہے

    یاد رکھیں چند گناہ ایسے ہیں کہ جن کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے ان میں سے ایک ماں باپ کی نافرمانی ہے 

            نبیِ کریمﷺ کی خدمت میں ایک خاتون کا پیغام آیا کہ میرے خاوند حضرتِ علقمہؓ عالمِ نزاع میں ہیں اور ان سے کلمہ نہیں پڑھا جارہا ہے    آپؐ تشریف لےگئے اور کہا کہ علقمہ کہو " لاالٰہ الااللہ " وہ کہنے لگے یارسول اللّٰہ  نہیں کہا جارہا ہے (بات کررہے ہیں لیکن کلمہ نہیں پڑھا جارہا ہے) حضورِ پرنورﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ باحیات ہیں؟ تو بتایا گیا کہ ماں زندہ ہیں آپؐ نے ان کی ماں کو بلوایا ( بعض روایات کے مطابق آپؐ ان کے پاس تشریف لے گئے) اور ان سے پوچھا کہ بیٹے سے ناراض ہو؟    ان کی ماں نے کہا ہاں:   پوچھا کیوں؟    تو کہنے لگیں یارسول  اللّٰہﷺ میرا بچہ بہت نیک ہے اکثر دن کو روزے رکھتا ہے اور راتوں کو نوافل پڑھتا ہے لیکن جب مجھ سے بات کرتا ہے تو دل چھلنی کردیتا ہے یعنی مجھ سے بات کرتے ہوئے اس کی زبان میں تلخی اور کڑواہٹ ہوتی ہے اس کے لہجے میں مٹھاس نہیں ہوتی ہے اس لئے میرا دل دکھی ہے 

نبیﷺ نے فرمایا کہ معاف کرتی ہو؟  کہنے لگی نہیں تو آپؐ نے کہا: بلالؓ لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ لگاؤ اور علقمہؓ کو اس میں جلادو

وہ کہنے لگیں:   یارسول اللّٰہﷺ آپ مجھ سے مذاق کررہے ہیں آپؐ میرے بیٹے کو جلائیں گے؟  آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم نے معاف نہیں کیا تو اللّٰہ اپنی آگ (جہنم) میں اس کو جلائیں گے اور میری آگ اللّٰہ کی آگ سے بہت ہلکی ہے 

      پھر انہوں نے کہا یارسول اللّٰہﷺ آپ گواہ رہیں میں نے اپنے بیٹے کو معاف کیا:   معاف کرتے ہی حضرتِ علقمہؓ کی زبان پہ کلمہ جاری ہوگیا اور کلمہ پڑھتے ہوئے انتقال فرماگئے  

        حضرتِ علقمہؓ کے تکفین وتدفین سے فراغت کے بعد آپؐ نے فرمایا:    لوگوں جس نے اپنے ماں باپ کو دکھی کیا:   اس پر اللّٰہ کی لعنت اس کے فرشتوں کی لعنت:    نہ اس کی نماز قبول'   نہ اس کا روزہ قبول اور نہ اس کا صدقہ قبول ہے 

       محترم قارئین!  اللّٰہ رب العالمین نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھا ہے اور باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے     اس لئے ہم اپنے ماں باپ کی قدر کریں اور ان کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنائیں

  ماں باپ ایک انمول نعمت ہیں اور ہم ان کے ساتھ جیسا تعلق اور برتاؤ رکھیں گے ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرےگی

اللّٰہ تبارک وتعالٰی ماں باپ کی نافرمانی سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں ان کا قدرداں اور فرماں بردار بنائے  (آمین)

طالبِ دعا     رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟