انٹرنیشنل بےوقوف حضرات

                                  ﷽


ألحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين أمابعد:
محترم قارئین:
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
اللّٰہ رب العالمین کا ارشاد ہے   قل إن كنتم تحبون الله فاتبعونى (القرآن)
(اے میرے حبیبﷺ) آپ کہہ دیجئے (میرے بندوں سے) اگر تم اللّٰہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع (پیروی) کرو
اس آیتِ کریمہ کے اندر اللّٰہ رب العزت نے ایک قانون اور ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ جو شخص محب خدا (اللّٰہ تبارک وتعالیٰ سے محبت کرنے والا) ہوگا وہ متبع سنت (آپﷺ کا پیروکار) ضرور بالضرور ہوگا
        ہم کیسے عاشقِ خدا ہیں؟ کہ ہماری زندگیاں سنتِ رسولﷺ سے خالی ہیں
اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جو شخص میرے حبیبﷺ کی اتباع اور پیروی کرےگا میں (اللّٰہ) اس بندے کو اپنا محبوب بنالوں گا  اور اس کے گناہوں کو بخش دوں گا اور اللّٰہ بخشنے والا' رحم کرنے والا ہے
      اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی بھی ہم سے محبت کرے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے تو پہلے ہمیں اپنی زندگیوں کو سنتِ نبویﷺ سے سجانا ہوگا اور اپنے روٹھے رب کو منانا ہوگا

قیس نامی ایک مجنون گزرا ہے ایک مرتبہ حضرتِ حسنؓ بن علی المرتضیٰؓ سے اس کی ملاقات ہوئی کہنے لگا آپؓ امیر معاویہؓ کے پاس گئے تھے کیا معاملہ طے پایا؟ حضرتِ حسنؓ نے کہا کہ حکومت جن کو سجتی تھی میں نے ان کے حوالے کردی تو قیس نے کہا حضرت میری نظر میں تو حکومت لیلٰی کو سجتی ہے    حضرتِ حسنؓ نے کہا أنت مجنون (تو پاگل ہے)  تب سے اس کا لقب مجنوں پڑ گیا    اس کے متعلق کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ لیلٰی کا اس قدر عاشق ہوا کہ لیلٰی کے گھر کے در ودیوار کو بوسہ دیتا تھا یہاں تک کہ لیلٰی کی گلیوں سے گزرنے والے کتوں کو پکڑ پکڑ کر بوسے دیتا تھا انہیں  چومتا اور  چاٹتا تھا                اور ایک ہم لوگ ہیں جو اللّٰہ کی محبت کا دم تو بھرتے ہیں مگر ہمارے سینے اللّٰہ اور اس کے حبیبﷺ کی محبت سے خالی ہیں   کیونکہ اگر ہم حقیقی محب ہوتے تو ہماری زندگیاں رسولِ مقبولﷺ کی سنتوں سے مزیّن ہوتیں
بعضے گناہ ایسے ہیں جن کو کرگزرنے کے بعد بھی نامئہ اعمال میں ان گناہوں کا اندراج جاری وساری رہتا ہے    انہیں گناہوں میں سے ایک گناہ ایسا ہے جس کو بہت ہی معمولی سمجھا جاتا ہے      اور اس گناہ کا اثر یہ ہے کہ بحالتِ صلوٰۃ بھی مصلی کے نامئہ اعمال میں وہ گناہ اندراج ہورہا ہوتا ہے اس گناہ کا مرتکب خانئہ کعبہ کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو تب بھی اس کے نامئہ اعمال میں وہ گناہ لکھا جارہا ہوتا ہے یہاں تک کہ بحالتِ نوم (سونے کی حالت میں) بھی لکھا جاتا ہے     وہ عظیم گناہ (پیارے نبیﷺ کی پیاری سنت) داڑھی کا منڈانا یا ایک مشت (ایک مٹھی) سے کم رکھنا ہے     یہ وہ عظیم گناہ ہے جس کے مرتکب کے نامئہ اعمال میں ہروقت ہرآن اور ہرگھڑی اندراج کیا جاتا ہے
    معذرت کے ساتھ:   کلین شیو (داڑھی منڈانے والے) یا چھوٹی رکھنے والے اشخاص عملاً یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ  نبیﷺ کا چہرۂ مبارک (العیاذ باللہ) ہمیں پسند نہیں ہے  ہمیں تو غیر اقوام کا چہرہ اور حلیہ پسند ہے اس لئے ہم اپنے چہروں پر داڑھی جیسی پیاری سنت جس کا کم از کم ایک مشت رکھنا واجب ہے     ہم نہیں رکھ سکتے
   یہ ہو نہیں سکتا کہ  اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں موجود ہو اور وہ زندگی جو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کو پسند ہو قولا یا فعلا ہم اس زندگی کی مخالفت کریں
نبیﷺ کا فرمان ہے   واعفو اللحى واحفو الشوارب
داڑھی بڑھاؤ اور موچھیں کٹاؤ     اور ہم عملاً  کہہ رہے ہوتے ہیں کہ داڑھی کٹاؤ اور موچھیں بڑھاؤ (العیاذ باللہ)
     اللّٰہ رب العزت نے ستر ہزار ایسے فرشتے پیدا کیا ہے جن کی صبح وشام (ہروقت) کی تسبیح ہے   سبحان من زين الرجال باللحى    پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی کے ذریعہ خوبصورت بنایا     اور ماڈرن زمانے کے انٹرنیشنل بےوقوف حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم داڑھی منڈاکر خوبصورت لگتے ہیں
اللّٰہ ہمارے دلوں میں اپنی اور اپنے حبیبﷺ کی سچی محبت عطا فرماکر  نبیِ کریمﷺ والی پیاری زندگی نصیب فرمائے (آمین)


طالبِ دعا:     رضوان اللّٰہ
خادم التدریس: مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟