شادی ایک عذاب بن گئی ہے

                                    ﷽


الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى امابعد!
        محترم قارئینِ کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
   اللّٰہ رب العزت کا ارشاد ہے

امنوا كمآ امن الناس

صحابہ (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین) جیسا ایمان لاؤ!

ہمارے لئے معیار رسولِ مقبولؐ اور صحابۂ رسولﷺ ہیں نہ کہ برادرانِ وطن (کفارومشرکین)

    نیز آقائے مدنیﷺ نے فرمایا

من تشبه بقوم فهو منهم

جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرےگا (کل روزقیامت) وہ اسی (قوم) کے ساتھ ہوگا

آج ہم برادرانِ وطن کے رنگ میں اس قدر رنگ گئے ہیں کہ ہماری اپنی شناخت تک باقی نہیں رہی پھر بھی ہم اپنے آپ کو امت محمدیہﷺ کا شیدائی اور اللّٰہ کی جنت کو وطنِ آبائی سمجھ رہے ہیں

محترم قارئین!   صحابۂ کرام بکثرت شادیاں کرتے تھے لیکن کسی شادی میں سوائے دعوتِ  ولیمہ کے کسی بھی دعوت کا ثبوت تواریخ وسیر کی کتابوں میں نہیں ملتا ہے

نکاح وشادی کو شریعتِ مطہرہ نے اس قدر سہل اور آسان رکھا ہے کہ ہر شخص بسہولت وآسانی کرسکتا ہے مگر افسوس کہ ترکِ سنتِ نبیﷺ کی وجہ سے شادی ایک عذاب بن گئی ہے

یہی وجہ ہے کہ ایک بیٹی کا باپ اپنی بچی کی شادی کرنے کے لئے دربدر لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے اور اگر کچھ غیرت مند ہے تو پھر لون اور سودی قرض تلے اپنی زندگی عذاب بنالیتا ہے

برادرانِ وطن کی اتباع وپیروی میں ایک اور خبیث رسم ریاستِ بہار وجھارکھنڈ اور بنگال کے مسلم بھائیوں نے اپنا رکھا وہ  ہے "چوتھیا" یعنی شادی کے تین دن بعد چوتھے روز لڑکی والوں کی طرف سے کچھ اشخاص لڑکے والوں کے گھر جاتے ہیں اور پرتکلف دعوت اڑاتے ہیں

   میرے پیارے اسلامی بھائیوں!  کیا قرآنِ کریم اور سنن رسولؐ ہمارے لئے کافی نہیں ہیں؟   ہر معاملے میں ہم ان لوگوں کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے ہی دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ اللّٰہ وحدہ لاشریک کے بھی باغی ودشمن ہیں

 اللّٰہ تبارک وتعالٰی کے حکموں کو توڑ کر اور نبیِ کریمﷺ کی سنتوں کو چھوڑ کر ہم دنیا میں بھی ذلیل وخوار اور عذابِ الہٰی کے شکار ہورہے ہیں پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں



       حضرات!    سنتِ صحابہ (رضوان اللّٰہ تعالٰی علیھم اجمعین) اور سنتِ مدنیﷺ سے منہ پھیر کر ہم اپنی شادیاں کریں گے تو اس عبادت (شادی) کے اجر وثواب اور اس کے برکات بھلا کیسے پائیں گے؟

احقر بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ اپنی قوم کے ذمہ داروں اور سرداروں سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اس ناسور ومہلک رسم ورواج کے خاتمہ کے لئے آپ عملی طور پر قدم کیوں نہیں بڑھاتے ہیں؟

آپ اپنی شادیوں کو صحابۂ کرامؓ کی طرح سادی کیوں نہیں بناتے ہیں؟

آپ بذاتِ خود اس ناسور رسم ورواج اور تلک وجہیز کے خلاف میدان میں کیوں نہیں آتے ہیں؟

   علامہ زین الدین بن رجبؒ نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ایسا شخص آیا جو پہلے کفن چور تھا توبہ تائب ہوکر نیکوکاری اور پرہیزگاری کی زندگی گزار رہا تھا۰۰۰  حضرتِ علامہؒ نے اس سے پوچھا

تم مردوں کے کفن چراتے تھے     قبر میں تم نے ان کی حالت دیکھی ہے    یہ بتاؤ کہ جب تم ان کے چہرے کھولتے تھے تو ان کا رخ کس طرف ہوتا تھا؟

اس نے جواب دیا:  اکثر مردوں کے چہرے قبلہ کے رخ سے پھرے ہوتے تھے

حضرت زین الدینؒ کو بڑا تعجّب ہوا کیونکہ دفن کرتے ہوئے تو میت کا چہرہ قبلہ رخ کیا جاتا ہے:

      انہوں نے امام اوزاعیؒ سے اس کے بارے میں پوچھا تو امام اوزاعیؒ نے پہلے تین مرتبہ "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھا       پھر فرمایا۰۰۰  یہ وہ لوگ ہونگے جو اپنی زندگی میں سنتوں سے منہ پھیرنے والے تھے

معزز قارئين!   آئیے ہم سب آج عہد کریں کہ ہر رسم ورواج اور غیروں کے طور وطریق کو چھوڑ کر "ان شآء اللهُ العزیز" اپنے آپ کو سنت وشریعت کا دیوانہ اور شیدائی بناکر صحابۂ رسولﷺ والی زندگی بنائیں گے اور اپنے روٹھے رب کو منائیں گے

       اللّٰہ ہمیں صحابۂ کرام (رضوان الله تعالٰی علیھم اجمعین) جیسا ایمان اور پاکیزہ زندگی نصیب فرمائے (آمین)


دعاؤں کا طالب!     رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟