اسلامی معاشرت


                                  ﷽

حضرات قارئینِ کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

اسلام!    زندگی گزارنے کا وہ طریقہ ہے جو اللّٰہ نے اپنے علمِ کامل سے ہمیں عطاء فرمایا

اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں کے بارے میں فرماتا ہے

ومآ أوتيتم من العلم إلا قليلا (القرآن)

میرے بندوں تمہارے پاس علم بہت تھوڑا ہے   جو جس لائن میں جہاں پر بھی ہے یہ آیتِ کریمہ اس کو بتاتی ہے کہ جو علم تمہارے پاس ہے وہ بہت تھوڑا ہے اور یقیناً تھوڑے علم کے ساتھ صحیح فیصلے نہیں کیئے جاسکتے ہیں اس لئے اللّٰہ تعالی نے اپنے علمِ کامل سے ہمیں زندگی گزارنے کا ایک مکمل کتاب اور قانون دیا اور اس پر چیلنج کیا

ذلك الكتب لا ريب فيه

یہ وہ کتاب (قانون) ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں

     دنیا کا بڑے سے بڑا مصنف یہ دعویٰ اور چیلنج نہیں کرسکتا کہ جو میری کتاب ہے اس میں شکوک وشبہات کی کوئی گنجائش نہیں ہے    پوری کائنات میں صرف اور صرف اللّٰہ  عزوجل  کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہے     لاريب فيه   شک وشبہ سے بالاتر یہ کتاب اور قانون ہے

     اسلام کا ایک حصہ عبادات اور دوسرا حصہ معاشرت ہے

اسلامی معاشرت ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ بتاتی ہے مگر۰۰۰۰۰ افسوس کہ آج کا مسلمان ہی اسلامی معاشرت کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے

      رشتوں میں سب سے مقدس اور معظّم رشتہ والدین (ماں اور باپ) کا ہے اور رشتوں میں سب سے بڑا اور اہم رشتہ خاوند اور بیوی کا ہے

وہ اس لئے کہ خاوند اور بیوی کا رشتہ سارے رشتوں کی بنیاد ہے اور اللّٰہ رب العزت نے اس رشتہ کے علاوہ کسی بھی رشتے کو اپنی نشانی کے طور پر ذکر نہیں کیا مگر اس رشتہ کے بارے میں فرمایا

ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجا (القرآن)

اللّٰہ فرماتا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ میری نشانیوں میں سے ہے

نیز سب سے پہلا اور آخری رشتہ بھی یہی ہے

نوعِ انسانی میں سب سے پہلا رشتہ ۰۰۰۰۰ میاں اور بیوی (حضرتِ آدمؑ وحواءؑ) کا ہے اور  مرنے کے بعد جنت میں ہر شخص اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ ہوگا    والحقنا بھم ذریتھم  دوسرے رشتہ دار بھی ساتھ ساتھ ہونگے مگر ہر جوڑا (میاں بیوی) کی جنت الگ ہوگی جس میں وہ اپنی ابدی زندگی بسر کریں گے تو اس لحاظ سے اول وآخر رشتہ بھی خاوند اور بیوی کا ہے

اللّٰہ تبارک وتعالٰی نے حضرتِ حواء کو حضرتِ آدمؑ کی بائیں طرف کی پسلیوں سے پیدا فرمایا بائیں جانب سے کیوں پیدا فرمایا؟   جب کہ برکت سیدھے ہاتھ (دائیں طرف) میں ہے کیونکہ بائیں طرف دل ہے

اللّٰہ نے بائیں جانب سے پیدا کرکے ہمیں یہ پیغام دیا کہ عورت جس روپ میں بھی ہو اس کا پہلا روپ بیوی بنا' پھر ماں اسکے آگے بیٹی' بہن' خالہ' پھوپھی' دادی' نانی اور ساس کا روپ ہے یہ جس روپ میں بھی ہو  اس کو دل کے قریب رکھنا  اس کو ذلیل وخوار نہ کرنا' بےعزت نہ کرنا اس پر شدت نہ کرنا!    پہلا بنیادی رشتہ خاوند اور بیوی ہے اور آخری رشتہ بھی خاوند اور بیوی ہے     لیکن اس وقت ہمارے معاشرے میں خاوند سے زیادہ اس کے والدین حق جتلاتے ہیں' خاوند سے زیادہ اس کی بہنیں اور اس کے رشتہ دار حق جتلاتے ہیں اور جھوٹی سچی شکایتیں لگاکر خاوند کو بیوی سے متنفر کرتے ہیں اور کہیں بیوی کو خاوند سے متنفر کرتے ہیں اور دونوں کو آپس میں لڑاکر پھر خوش ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ کی نظر میں پاخانہ کی طرح ناپاک ہیں



    نبیِ پاکؑ سے پوچھا گیا یارسول اللّٰہﷺ آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے آپؐ نے فرمایا عائشہؓ سے تو پوچھنے والے جھینپ گئے کہنے لگے نہیں: لوگوں میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے تو فرمایا ابوھا یعنی  عائشہؓ کے باپ سے  اللّٰہ اکبر کبیرا

آپؐ ایسے بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ابوبکرؓ سے       آپؐ کو کوئی عشق نہیں چڑھا ہوا تھا بلکہ ہم جاہلوں کو پیغام دینا تھا کہ گھر کی زندگی ایسی پیار ومحبت والی ہوتی ہے      آج ہمارے معاشرے میں اس طرح اگر کوئی اظہارِ محبت کرے تو لوگ کہیں گے زن مرید ہوگیا ہے یہ تو جورو کا غلام ہے

    آپﷺ اپنے گھر میں بیوی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے آپؐ لقمے بنا بناکر امی عائشہؓ کے منہ میں کھلاتے حضرتِ عائشہؓ برتن کے جس حصہ پر اپنے ہونٹ لگاکر پانی پیتیں آپؐ برتن کے اسی حصہ پر اپنے ہونٹ لگاکر پانی پیتے آپؐ گھر میں جھاڑو دیتے اپنے کپڑے خود دھوتے گھر میں سامان بکھرے پڑے ہوں تو بیوی کو نہیں ڈانٹتے خود اٹھاکر سیٹ کرکے رکھ دیتے گھر والوں کے ساتھ مل کر گھر کا کام کرتے یہ ہمارے نبیﷺ کی معاشرت ہے جسے ہم اور آپ بھلا چکے ہیں

شادی کے بعد سب سے بڑا حق خاوند کا ہے  ماں باپ پیچھے چلے جاتے ہیں  بھائی بہن پیچھے چلے جاتے ہیں لیکن یہ نادانیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی ماں باپ اپنی بچی کو اپنے قابو میں رکھنے کی ترکیبیں سوچتے ہیں اور بچی بھی اپنے ماں باپ کے اشارے پر چلتی ہے جس کی وجہ سے بچی کی ازدواجی زندگی تباہ وبرباد ہوجاتی ہے





        نبیِ کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو آپؐ نے فرمایا اس کے خاوند کا      ایک خاتون آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا یارسول اللّٰہ میری شادی ہورہی ہے تو میرے خاوند کا مجھ پر کیا حق ہے    آپؐ نے فرمایا کہ تیرے خاوند کے جسم پر زخم ہو اور اس میں پیپ پڑجائے اور تو اپنی زبان سے اسے چاٹ چاٹ کر زخم صاف  کرے تو بھی تونے اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کیا

        خاوند کو سمجھایا کہ سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرے اور میرا تم سب میں سب سے اچھا سلوک ہے میری بیویوں کے ساتھ

بعضے جاہل ایسے ہیں جو ماں باپ کی وجہ سے بیوی کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں اور بعضے بدبخت اپنی بیوی کی وجہ سے ماں باپ کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں یہ دونوں ظلم ہے اس سے بچو! ماں باپ کا اپنا مقام ہے ان کو ان کے مقام پہ رکھو! اور بیوی کا اپنا مقام ہے اس کو اس کے مقام پہ رکھو کسی کی وجہ سے کسی پر بھی ظلم نہ کرو

         یہ دنیا ہے یہاں کھٹ پٹ ہوگی اور ہوتی رہےگی چشم پوشی اور عفودرگزر سے کام لو    جنت میں ایک روشنی پھوٹےگی جس سے ساری جنت چمک اٹھےگی لوگ کہیں گے یہ روشنی کیسی ہے؟ تو فرشتے کہیں گے کہ جنت الفردوس میں حضرت علیؓ وفاطمہؓ کسی بات پر ہنسے ہیں ان کے دانتوں سے نور کی کرن پھوٹی ہے جس سے ساری جنت جگمگا اٹھی ہے ۰۰۰۰  لیکن کھٹ پٹ ان میں بھی ہوجاتی تھی

اور ان سے بڑا گھر نبیﷺ کا ہے لیکن کھٹ پٹ وہاں بھی تھی آپؐ فرماتے ہیں عائشہؓ جب آپ مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے امی عائشہؓ نے پوچھا وہ کیسے؟

فرمایا جب ناراض ہوتی ہو قسم اٹھاتے ہوئے کہتی ہو ربِّ ابراہیمؑ کی قسم اور جب ناراض نہیں ہوتی ہو تو کہتی ہو ربِّ محمدؐ کی قسم تو کھٹ پٹ نبیﷺ کے گھر میں بھی ہوجاتی تھی یہ تو یہاں ہوتی رہیں گی یہ جنت میں جاکر ختم ہوں گی

ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے کم کریں اور صبر وبرداشت سے رشتے نبھائیں ہم نبیﷺ کی معاشرت اور زندگی کو بھلا چکےہیں اسے پڑھیں سیکھیں اور اپنائیں!

اللّٰہ ہمیں اپنے نبیﷺ والی پاکیزہ زندگی نصیب فرمائے  (آمین)


طالبِ دعا     رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟