اسلام کا مضبوط ترین عمل


                                 

ألحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وصحبه أجمعين أمابعد!

قارئینِ کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ 

فرمانِ الہٰی ہے 

هن لباس لكم وأنتم لباس لهن (القرآن)

تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو

خاوند اور بیوی کو لباس سے تشبیہ دینے میں چند حکمتیں ہیں

( ۱ ) اجسام انسانی اور لباس میں جیسے غایت درجہ کی قربت ہوتی ہے خاوند اور بیوی میں بھی ویسی ہی قربت ہونی چاہئے

( ۲ ) اجسام انسانی اور لباس کے مابین جیسے کوئی تیسری شئ حائل نہیں ہوتی  خاوند وبیوی کے مابین بھی کوئی تیسرا نہ حائل ہو اور نہ کسی اور کو حائل ہونے دیں

( ۳ ) لباس سے جیسے سترپوشی اور عیب پوشی ہوتی ہے خاوند وبیوی بھی ایک دوسرے کی عیب پوشی کریں

( ۴ ) لباس کے ذریعہ انسان زینت اختیار کرتا ہے لہٰذا خاوند وبیوی بھی ایک دوسرے کے لئے سامانِ زینت بنیں

( ۵ ) لباس جیسے جسم پر ہوتا ہے نہ کہ پاؤں کے نپچے اس لئے خاوند اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے خاوند کو پاؤں کی جوتی نہ سمجھیں

اور بھی بےشمار حکمتیں ہیں حاصلِ کلام امر یہ ہے کہ کسی بھی رشتہ کے لئے اللّٰہ تبارک وتعالٰی نے اتنی سنہری اور پیاری تشبیہ نہیں دی کیونکہ یہ رشتہ بہت اہم اور بہت ہی نازک ہے

اہم اس قدر ہے کہ اللّٰہ نے اس رشتہ کا ذکر اپنی نشانی کے طور پر کیا

ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجا (القرآن)

 اور نازک اس قدر ہے کہ کوئی بھی رشتہ کسی کے توڑنے سے نہ ٹوٹ سکتا ہے اور نہ ختم ہوسکتا ہے لیکن یہ رشتہ فقط ایک بول پر ٹوٹ جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے!

حضراتِ قارئين!    ہمارے سماج وسوسائٹی میں کچھ ناداں اور ناسمجھ اشخاص ایسے بھی ہیں جو لباسِ زوجیت (رشتۂ زوجیت) کا خیال وپرواہ بالکل بھی نہیں کرتے!     اور کچھ شیطان بشکل انسان ایسے بھی ہیں جو اپنی بچی کو داماد کے خلاف اور بعضے اپنے بچے کو بہو کے خلاف اکساتے اور بھڑکاتے ہیں

 مقصد ۰۰۰۰۰۰۰ اپنی پکڑ اور چودھراہٹ بچوں میں بنائے رکھنا ہوتا ہے  اور اس نادانی وبےوقوفی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کی زندگی تباہ وبرباد کرڈالتے ہیں

      شیاطین کی کچہری ہر روز قائم کی جاتی ہے پھر شیاطین کی کارگزاریاں لی جاتی ہیں جو شیطان کسی خاوند وبیوی میں تفریق وجدائی کراکر یا کم از کم دونوں کو لڑاکر آتا ہے تو اس کا خوب اعزاز واکرام کیا جاتا ہے کہ کام تو اس نے کیا ہے کیونکہ بےنمازی کی نماز کا اثر اس کی ذات تک' زانی کے زنا کا اثر اس کی ذات تک' شرابی کے شراب کا اثر اس کی ذات تک اور خونی کے خون کا اثر اس کی ذات تک رہتا ہے لیکن خاوند وبیوی کی تفریق (جدائی) اور لڑائی کا اثر نسل در نسل تک جاتا ہے

رسولِ مقبولﷺ اور حضراتِ صحابہ (رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین) لباسِ زوجیت کا پورا پورا خیال رکھتے تھے

ایک شخص اپنی بیوی کی چرب زبانی سے تنگ آکر حضرتِ عمرفاروقؓ کے پاس شکایت کرنے کی غرض سے پہونچا کہ حضرت میری بیوی کو تنبیہ فرما دینگے تو پھر میری بیوی اپنی چرب زبانی سے باز آجائےگی لیکن سیدنا عمرفاروقؓ کے گھر پہونچ کر کیا دیکھتا ہے کہ گھر کے اندر حضرت عمرؓ کی اہلیہؓ خود ان کی خبر لے رہی ہوتی ہیں (تیز آواز میں عمرفاروقؓ سے ہم کلام ہوتی ہیں) دہلیز کے باہر  سے ہی حضرت سے بغیر ملے واپس ہونے لگا اس سوچ کے ساتھ کہ جس قضیہ کو لے کر میں یہاں آیا تھا وہ معاملہ تو خود حضرت امیرالمومنینؓ کے گھر میں موجود ہے پھر میرا معاملہ وہ کیسے سلجھا پائیں گے ۰۰۰  اتنے میں امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ باہر تشریف لے آئے تو اپنے یہاں سے کسی شخص کو جاتا دیکھ کر آپ نے آواز لگایا پھر اس کے آنے کے بعد آپؓ نے پوچھا بولو بھئی کیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا بس یونہی آیا تھا

جب فاروقِ اعظمؓ نے اصرار کیا کہ بولو کیا بات ہے کیا پریشانی ہے؟    پھر اس نے بتایا کہ اپنی بیوی کی چرب زبانی سے تنگ آکر آیا تھا لیکن یہاں آکر وہی پرابلم پایا اس لئے واپس جارہا تھا

پھر حضرتِ عمرفاروقؓ نے جو جواب دیا وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے آپؓ نے فرمایا کہ میری بیوی کے مجھ پر بڑے احسانات ہیں اس نے میری خاطر اپنے ماں باپ' بھائی بہن اور رشتہ دار چھوڑے' میرے بچوں کے لئے وہ دایا بن گئی' ہمارے لئے وہ باورچن اور دھوبی بن گئی میرے عدم موجودگی میں میرے گھر کا دیکھ ریکھ اور میرے بچوں کی پرورش وپرداخت کرتی ہے ۰۰۰۰۰ اب تم ہی بتاؤ جس عورت کے اتنے سارے احسانات ہوں وہ کبھی کبھار سخت وسست بات بول بھی دے تو کیا ہوا؟

 اور اگر میں پلٹ کر جواب دوں تو مجھ سے بڑا ظالم بھلا کون ہوگا؟  -اللّٰہ اکبر کبیرا-

دوستو!     ہم نے اس پاکیزہ زندگی کو بھلا دیا ہے    خاوند وبیوی کا پیار ومحبت کے ساتھ رہنا اللّٰہ تبارک وتعالٰی کو اتنا پسند ہے کہ حضور پرنورﷺ نے فرمایا کہ خاوند جب بیوی کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور بیوی اپنے خاوند کو دیکھ کر مسکراتی ہے تو ان دونوں کو فرش پر مسکراتا دیکھ کر اللّٰہ رب العالمین عرش پر مسکراتا ہے

              ألله أكبر كبيرا  والحمد لله كثيرا 

اسلام کا مضبوط ترین عمل محبت ہے     آپس میں اللّٰہ کے لئے محبت کرنا یہ اسلام کا مضبوط ترین عمل ہے اس لئے ہم خود پیار ومحبت کے ساتھ زندگی گزاریں اور دوسروں کے رشتۂ ازدواجیت میں بےجا مداخلت کرکے جو ایک دوسرے کے لئے لباس ہیں  ' خدارا '  ان کے لباس کو تار تار نہ کریں!

اللّٰہ ہمیں پیار ومحبت والی پاکیزہ زندگی نصیب فرمائے (آمین)

طالبِ دعا!       رضوان اللّٰہ
خادم التدریس!  مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟