مردہ ضمیر مہتمم ومنتظمین
﷽
حامدا ومصلیا امابعد
اللّٰہ رب العزت کا ارشاد ہے
ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا
ہم نے کتاب (قرآن) کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جو میرے چنے ہوئے ہیں
اللّٰہ اکبر کبیرا کتنا بڑا اعجاز ہے
یہ نعمت اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اس شخص کو دیتے ہیں جس کا انتخاب وہ خود فرماتے ہیں اور جس شخص کا انتخاب اللّٰہ خود کرے اپنی اتنی بڑی نعمت کیلئے وہ شخص عنداللہ کس قدر مقبول ومحبوب ہوگا
نیز محمد عربیﷺ نے فرمایا
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے
جن اشخاص کو قرآنِ عظیم اور نبیِ کریمﷺ نے چنندہ اور بہتر بتایا' جو حضرات اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کی نظر میں منتخب اور عالی شان وعالی مقام لوگ ہیں
وہ حضرات عوام وسماج کی نظر میں کمتر اور حقیر سمجھے جاتے ہیں! استغفراللہ
مدارس ومکاتب یا مساجد جو اسلام کے قلعے اور دین کے اڈے ہیں
وہاں بھی اللّٰہ کے ان مقبول بندوں کا مقام کیا ہے؟ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے
ائمہِ مساجد جو نبیِ کریمﷺ کی عظیم سنت امامت کے علمبردار ہیں
جن کی اقتداء میں پنج وقتہ نماز ہم ادا کرتے ہیں جن کے جھکنے کے بعد ہم جھکتے ہیں جن کے کھڑے ہونے پر کھڑے ہوتے ہیں اور جن کے سلام پھیرنے کے بعد ہی ہم سلام پھیرتے ہیں
نماز جیسی اہم اور عظیم عبادت میں ہم جن اشخاص کے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں
خارج صلوٰۃ(نماز سے باہر) ہر جگہ ان کو ہم پیچھے کردیتے ہیں
اور بشکلِ وظیفہ اور شہریہ (تنخواہ) ہم جو ان کو دیتے ہیں وہ قابلِ افسوس ہی نہیں بلکہ قابلِ شرم بھی ہے مگر ہم اس قدر بےشرم اور بےغیرت ہوگئے ہیں کہ شرم بھی ہم سے شرماتی ہے
ہم اپنے مزدور کو اس کی مزدوری جو دیتے ہیں اس سے بھی کم تنخواہ پر ہم اپنے لئے امام منتخب کرتے ہیں کیوں؟
کیا امام انسان نہیں ہوتا؟
اس کی بیوی بچے اور پریوار نہیں ہوتے؟
ہم بےغیرت اور بےشرم لوگ مسجدیں خوب عالیشان بنواتے ہیں ماربل وٹائلس کولرز اور اےسی لگواتے ہیں مگر جب امام ومؤذن حضرات کو تنخواہ دینے کی بات ہوتی ہے تو متولیان اور ممبرانِ مساجد کو سانپ سونگھ جاتا ہے
خوب جان لیں
امام ومؤذن حضرات کی ضروریات کے بقدر اگر ہم ان کو تنخواہ نہیں دیتے ہیں تو ہماری نماز وروزہ اور حج وعمرہ کام نہیں آئینگے کل قیامت کے دن ہم پکڑے جائینگے
نیز مدارس ومکاتب کے ناظم ومہتمم حضرات نے تو گویا بےشرمی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے! (الا ماشآء اللّٰہ)
اکثر ناظم ومہتمم حضرات مکاتب ومدارس کے فضلاء ہی ہوتے ہیں اس وجہ سے بھی یہ حضرات زیادہ قصوروار اور گنہگار ہیں کیونکہ قرآن وحدیث کا علم رکھنے کے باوجود بھی یہ لوگ اللّٰہ کے منتخب بندوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کا معاملہ رکھتے ہیں
عہدہ اہتمام وانتظام ملتے ہی ان کے اندر روایتی ساس والی روح عود کرآتی ہے
ہر مدرس ان کی نظر میں مثلِ بہو ہوتا ہے
پھر حضراتِ مدرسین میں کوئی خوبی نظر آتی ہی نہیں ہے سوائے چاپلوسی اور نازبرداری کے
مہتمم کی نظر میں یہ برائیاں (چاپلوسی اور نازبرداری) اتنی بھاری بھرکم خوبیاں ہوتی ہیں کہ یہ ہر خامی ڈھانپ لیتی ہیں اور جس مدرس کے اندر یہ برائیاں نہ ہوں اس کی ہر خوبی خامی لگتی ہے خواہ وہ محنتی' باصلاحیت اور صالح ہی کیوں نہ ہو
بعض مہتمم حضرات تو مدرسین کو زرخرید غلام سمجھتے ہیں ان سے اپنا پرسنل کام تک کراتے ہیں
بےغیرت مردہ ضمیر مہتمم ومنتظمین شرفاء کے لبادہ اوڑھے عوام میں بڑے بااخلاق' باکردار' بامروت اور باخدا بنے پھرتے ہیں مگر اپنے ماتحت معلمین ومدرسین کے ساتھ بڑے ہی بداخلاق' بدکردار' بےمروت اور ظالم بشکل انسان ابوالشیطان ہوتے ہیں
باستثناء چند مدارس اکثر مدارس ومکاتب کے مدرسین ومعلمین کی تنخواہیں پانچ ہزار سے دس ہزار کے مابین ہیں جبکہ مہتمم ومنتظمین حضرات کی چائے ناشتے کے اخراجات بھی ان کے مدرسین کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں
خود بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں اور ان کے مدرسین کے پاس اگر موٹرسائیکل بھی ہوجائے تو پیٹ میں مروڑ ہوتا ہے
ان بےشرموں کی وجہ سے ہی وارثین انبیاء (علماء) اسکول' کالج اور پاٹھشالوں' تجارت وکاروبار اور بزنس کا رخ کررہے ہیں
اگر ہمارا رویہ یوں ہی رہا تو عنقریب ہمارے مدارس ومکاتب اور مساجد کے لئے معلمین ومدرسین اور ائمہ ومؤذنین حضرات کا ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائےگا
اللّٰہ رب العالمین ایسے بےغیرت بےشرم مردہ ضمیر مہتمم ومنتظمین اور متولیین سے مدارس ومکاتب اور مساجد کی حفاظت فرمائے (آمین)
دعاؤں کا طالب! رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

اللہ پاک مساجد اور مدارس کے ذمےداران حضرات کو صحیح سمجھ عطا فرمائے
جواب دیںحذف کریںآمین
حذف کریں