علم اور اہلِ علم کی ناقدری کا انجام

                                  ﷽


الحمد  للہ رب العالمین والصلوة والسلام علی رسولہ الکریم وعلٰی الہ وصحبہ اجمعین امابعد

علم اور اہلِ علم سے بڑھتے ہوئے فاصلوں اور ناقدری نے امت کو بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے

          حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو سبق آموز بھی ہے اور عبرت ناک بھی

میرے ایک دوست ہیں جو عالم ومفتی ہیں ایک روز ان کا فون آیا اور علیک سلیک کے بعد میں نے حال واحوال پوچھا تو وہ ہچکیوں کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے میں نے کہا بھئی کیا ہوا خیریت تو ہے؟

تھوڑی دیر بعد اپنی ہچکیوں اور سسکیوں پر قابو پاتے ہوئے یوں گویا ہوئے کہ مفتی صاحب

 میری ہمشیرہ واپس آگئی ہے میں نے پوچھا کیا مطلب؟

کہنے لگے اس کی شادی کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا اور وہ مطلقہ ہوگئی

آج ہی ایک پھول سی معصوم بچی کو جنم دیا ہے  میں نے پوچھا وجہ کیا بنی؟ چونکہ ہم دونوں دوست آپس میں کافی بےتکلف ہیں

وہ کہنے لگے کہ گزشتہ سال مظفر پور سے ایک رشتہ آیا میرے اہلِ خانہ بہت خوش تھے کہ لڑکا دوبئی میں سروس کرتا ہے اچھی خاصی اس کی انکم ہے اور اس کے گھر والے بھی عزت دار لوگ ہیں ہماری بچی وہاں بہت خوش رہےگی

لیکن مفتی صاحب   جب ہم لوگ لڑکا دیکھنے اس کے یہاں پہونچے تو لڑکا کو دیکھتے ہی میرے گھر والے پھولے نہیں سمارہے تھے کیونکہ ظاہری اعتبار سے لڑکا بہت خوبصورت تھا

  میں نے اس سے بات کرنے کے لئے تھوڑی سی تمہید باندھی کہ پتہ لگے کہ فقط ظاہری خوبصورتی ہی ہے کہ باطن بھی خوبصورت ہے

           میں نے کہا آپﷺ کی ازدواجی زندگی کو امت نے بھلا دیا ہے تو آگے سے وہ بےشرم بےغیرت انسان کہنے لگا کہ مولوی صاحب

 زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا اور آپ لوگ پرانی باتیں لئے بیٹھے ہو اس بدبخت کو حیران وپریشان میں دیکھتا ہی رہ گیا مگر مفتی صاحب!   کسی کو کچھ بھی فرق نہ پڑا میری زبان کو پھر ایسی چپی لگی کہ گویا میں گونگا ہوں



         خیر  گھر واپس آنے کے بعد میں نے اہلِ خانہ کو بٹھایا اور سمجھانے کی بھرپور کوشش کی کہ وہ لڑکا ہماری بچی کے لئے کسی زاویے سے بھی مناسب نہیں ہے وہ دہریہ قسم کا بندہ ہے اس لئے انکار کردیا جائے

میرے اہلِ خانہ کہنے لگے کہ ایک بار ہماری بچی جو اس گھر میں چلی گئی سب ٹھیک ہوجائےگا وہ لڑکا بھی شریعت وسنت کا پابند ہوجائےگا

میں نے ہرممکن سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری بات سے کوئی بھی متفق نہ ہوا پھر بھی میں نے ہار نہیں مانا اپنی مسجد کے امام صاحب کو میں نے تیار کیا کہ آپ ہی میرے ابو کو سمجھائیں آپ کی بات وہ ضرور مان لینگے مگر امام صاحب کی باتوں کی بھی کسی کو پرواہ نہیں ہوئی

آخر کار وہ منحوس دن بھی آیا کہ میرے لاکھ اعتراض کرنے کے باوجود میری ہمشیرہ کو اس بدذات کے ساتھ رخصت کردیا گیا چند ایام بعد دونوں دوبئی چلےگئے اس کمبخت سے تو بات نہیں ہوتی تھی لیکن بہن سے جب بھی میں بات کرتا تھا تو کہتی تھی بھائی جان بس دعا کیجئےگا اور کبھی بھی کچھ بھی نہیں بتاتی تھی آنے سے چند روز پہلے خود اسی نے امی جان کو فون کیا اور صرف اتنا کہا کہ امی کاش آپ لوگ بھائی جان کی بات مان لئے ہوتے

       اور دوسرے دن ہم لوگ ایئرپورٹ سے اسے ریسیو کرکے لے آئے

وہ بچی بتاتی تھی کہ اس کمبخت کے کئی لڑکیوں کے ساتھ افیئر تھے اور آئے دن نئی نئی لڑکیوں کو گھر لے آتا تھا میرے سمجھانے یا کچھ کہنے پہ لات وگھوسے  سے بات کرتا تھا میں اس کے ساتھ ایک باندی (رکھیل) بن کے رہ گئی تھی

 ایک دن کچھ زیادہ ہی پی رکھی تھی وہ پھر روز مرہ کی طرح ایک نئی لڑکی کی ساتھ آیا میں نماز پڑھ رہی تھی اس لئے دروازہ کھولنے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی پھر کیا تھا دروازہ کھولتے ہی لات ومکے سے جی بھر مارا جب وہ تھک گیا تو میں مصلے پر جاکے بیٹھ کر اپنے مالک کے حضور رونے لگی اتنے میں پھر آیا اور مجھے دھکہ دیتے ہوئے طلاق کی گولیوں سے میری روح تک کو چھلنی کردیا

(اس کے بعد میرے دوست کی ہچکیاں مزید بڑھ گئیں)

           محترم قارئین! لڑکی کے گھر والے اگر مفتی صاحب اور امام صاحب کی بات مان لئے ہوتے تو ایک معصوم کی زندگی برباد ہونے سے بچ جاتی

اس لئے ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے علماء حضرات سے مشورہ لیں اور وہ جو کہیں طوعاً وکرھا ہم مان لیں اور ان کی عزت واحترام کو اپنے اوپر لازم سمجھیں

اللّٰہ علم اور اہلِ علم کی قدردانی کے ساتھ ساتھ ہمیں خوشیوں بھری زندگی نصیب فرمائے (آمین)



دعاؤں کا طالب!     رضوان اللّٰہ 
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟