فریب خوردہ عورتیں
﷽
حامدا ومصلیا امابعد!
فرمانِ خداوندی ہے " وقرن فی بیوتکن " مستورات اپنے گھروں میں رہیں
یعنی اپنے آپ کو اپنے گھروں میں قید کرلیں اس میں ان کے لئے عافیت اور عزت ہے کیونکہ جو شئ جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کو اسی قدر چھپا کر رکھا جاتا ہے
قوم کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں! کیا آپ نے جوہری کو نہیں دیکھا؟ کہ کیسے ہیرے اور جواہرات کو چھپا کر رکھتا ہے آپ میرے اللّٰہ کی نظر میں جوہری کے ہیرے اور جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہیں اس لئے اللّٰہ رب العزت نے آپ کو گھروں میں چھپ کر رہنے کا حکم دیا ہے
بغیر عذر اور شدید ضرورت کے آپ کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے اور بلا محرم کے اکیلے گھر سے باہر نکلنا تو کسی بھی صورت جائز نہیں
مگر افسوس صد افسوس کہ قوم کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو گھروں میں رانی کی طرح رہنا پسند نہیں بلکہ باہر جاکر لوگوں کی باندی اور نوکرانی بننا پسند ہے
عورت کا معنیٰ ہے " پردہ " آپ پردے کی چیز ہیں اس لئے آپ کو عورت کہا جاتا ہے آپ کی عزت وعافیت اللّٰہ نے پردے میں رکھی ہے آپ بےپردہ ہوکر اپنے آپ کو ذلیل ورسوا نا کریں
بعض جاہل عورتیں آرام اور اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے ہی بیرونِ خانہ ہوتی ہیں اندرونِ خانہ انہیں گھٹن اور بےچینی محسوس ہوتی ہے ان کو چین وسکون اور راحت وآرام گھر سے باہر ملتا ہے ایسی ہی عورتوں کے متعلق رسولِ مقبولﷺ نے فرمایا کہ عورتیں شیطان کی جال ہیں
اور بعض تعلیم یافتہ بےوقوف عورتیں ایسی ہیں کہ وہ حقوقِ نسواں کے دھوکے میں مرد حضرات کے شانہ بشانہ بن کر کولہو کے بیل سے بھی بدتر مقام پہ پہونچ چکی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس بات کا ان کو احساس تک نہیں ہے
(ایک حکایت لکھتا ہوں شاید بات سمجھ آجائے)
بڑے میاں گائے کو ہل میں ڈال کر کھیت جوت رہے تھے اور چھپر تلے بیل آرام سے جوگالی کررہا تھا
کسی آدمی کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے بڑے میاں سے پوچھا: یہ کیا تماشا ہے؟
تم نے بیل کو چھپر تلے باندھا ہے اور بےچاری گائے کو ہل میں جوت رکھا ہے
بڑے میاں نے کہا:
یہ "بی بی" شہر سے آئی ہے اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھاکر بھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے' لہٰذا پہلے دن ہی اپنے مالک سے اپنے حقوق کی بات کرنا
اس نے آتے ہی مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہئے
میں نے کہا: بیل تو ہل چلاکر کھیت جوتتا ہے! تو اس نے کہا:
میں گھر میں قید ہوکر نہیں رہ سکتی جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کرسکتی ہوں
چنانچہ میں نے اسے کھیت جوتنے پر لگادیا
یہ خوش وخرم کھیت میں بھی کام کرتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے
چونکہ بیل کے پاس کرنے کے لئے اب کوئی کام نہیں اس لئے وہ سارا دن چھپر تلے آرام کرتا ہے اور گائے کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے
بعضے بےوقوف عورتوں کا حال بڑے میاں کی گائے سے جداگانہ نہیں ہے
کیونکہ بیرونِ خانہ جو کام مردوں کے ذمہ تھا وہ بھی کررہی ہوتی ہیں اور اندرونِ خانہ کی ذمہ داری بھی انجام دے رہی ہوتی ہیں
آپ کو اپنے گھروں میں اپنے لوگوں کی خدمت گوارا نہیں اور باہر حقوقِ نسواں' آزادی اور ہائی کلچرز کے نام پر غیر مرد حضرات کی خدمت بخوشی قبول ہے
آفس' ہوٹل اور جہازوں میں ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ ہر آتے جاتے لوگوں کو جھک جھک کر آداب وسلام اور بھاگ بھاگ کر خدمت کرنا پڑھی لکھی تعلیم یافتہ عورتیں اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتی ہیں ایسی عورتیں انٹرنیشنل بےوقوف ہیں
اللّٰہ ان انٹرنیشنل بےوقوف عورتوں کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے (آمین)
آخر کیا وجہ ہے کہ یوروپ اور مغربی ممالک کے باشعور اور سنجیدہ قسم کے لوگ عورتوں کو پھر گھروں تک پہونچانے کی خموش محنت وکوشش کررہے ہیں
جبکہ وہی لوگ عورتوں کو گھروں سے باہر نکالنے والے ہیں
کیونکہ آج گھریلو زندگیاں تباہ وبرباد ہوچکی ہیں مغربی ممالک میں ان فریب خوردہ عورتوں کو یار تو سیکڑوں مل جاتے ہیں مگر انہیں اپنی بیوی بنانے کے لئے کوئی مرد نہیں ملتا وہاں ازدواجی زندگی کی عمر زیادہ سے زیادہ دو چار سال ہے اس کے بعد طلاق کا ہوجانا معمولی سی بات ہے
قوم کی ماؤں' بہنوں اور بیٹیوں!
آج کے بےغیرت انسان اپنا کاروبار اپنا بزنس اور اپنی کمپنیاں چلانے کے لئے حقوقِ برابری کا فریب دے کر آپ کو استعمال کررہے ہیں
خوب جان لیں!
انہیں آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ اپنے مفاد اور اپنی شہوانی خواہشات کے لئے آپ کی عزت اور آپ کی زندگی سے کھیل رہے ہیں
اس لئے میں اپنی قوم کی ماں' بہن اور بیٹیوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ مغربی کلچرز سے توبہ کرکے قرآن وسنت والی زندگی اپنائیں
جو اسلام اللّٰہ کی بندیوں کو باہر جاکر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا وہ اسلام باہر کام کرنے کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے الا یہ کہ مجبوری ہو!
اللّٰہ رب العالمین ہمیں اپنی مرضی والی زندگی نصیب فرمائے (آمین)
دعاؤں کا طالب! رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

Masha Allah
جواب دیںحذف کریں