تخلیقِ انسانی کا مقصد

                                ﷽

                     حامدا ومصلیا امابعد

تخلیقِ انسانی کا مقصد قرآن عظیم الشان یوں بیان کرتا ہے (وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون) میں (اللّٰہ) نے جنات وانسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے

     نیز رسولِ مقبولﷺ نے ارشاد فرمایا (الدنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للاخرة) دنیا تمہارے لئے بنائی گئی اور تم آخرت کے لئے بنائے گئے ہو

قرآنِ کریم اور حدیثِ رسولﷺ کی روشنی میں ہم جب اپنا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اپنے مقصد سے ہم کوسوں دور ہیں کیونکہ ہم نے ضرورت کو مقصد بنا رکھا ہے اور مقصد کو بھلا رکھا ہے

   دنیا ہمارے لئے بنائی گئی اور یہ ہماری ضرورت ہے مگر اسی دنیا کو ہم نے اپنا مقصد بناکر اپنی زندگی کو جو ایک قیمتی سرمایہ ہے ضائع کررہے ہیں اور اپنے مقصد یعنی عبادت وریاضت کو چھوڑ کر اپنے رب کی ناراضگی اور ہمیشہ کی ناکامی کا ہم سودا کررہے ہیں



بعض حضرات تو نماز وروزہ اور حج وزکواة ادا کرکے اس خوش فہمی میں ہیں کہ ہم نے اپنے مقصد کا حق ادا کردیا جب کہ یہ اعمال  اسلام کی بنیاد ہیں پورا اسلام نہیں ہیں

اور اللّٰہ رب العالمین نے ہمیں کامل ومکمل اسلام اور دین دیا ہے جو ماں کی گود سے لےکر قبر کی گود تک کی زندگی بتاتا ہے

          ہم اپنے دل ودماغ میں اس بات کو بٹھالیں کہ ہماری تخلیق کا مقصد اللّٰہ کی بندگی حاصل کرکے اپنی آخرت بنانا ہے اور ہر اس کام سے ہم بچیں جس سے اللّٰہ نے منع کیا ہے اور ہر اس کام پر اپنے آپ کو مجبور کریں جسے کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے

اصل خدا کی بندگی یہی ہے کہ ہم منہیات سے اجتناب اور احکامِ خداوندی کی اتباع کریں یہی ہماری زندگی اور تخلیق کا مقصد ہے

اللّٰہ ہمیں اپنے مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)



دعاؤں کا طالب!   رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام کا مضبوط ترین عمل

انٹرنیشنل فقراء

ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟