بابرکت شادی
﷽
الحمد لولیہ والصلوة والسلام علی من لانبی بعدہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین امابعد!
ہمارے معاشرے میں شادی ایک کاروبار بن گئی ہے جس کے بارے میں رسولِ مقبولﷺ نے فرمایا (النکاح من سنتی) کہ نکاح (شادی بیاہ) میری سنت ہے افسوس صد افسوس کہ ہم نے سنتِ رسولؐ کو ایک کاروباری شکل دے رکھا ہے جس کی وجہ سے غریب باپ کی بن بیاہی معصوم بیٹیاں اپنے باپ کے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں یاد رکھیں ان بیٹیوں کے دل کی آہیں اور راتوں کی سسکیاں رائیگاں نہیں جائینگی
شریعتِ مطہرہ نے شادی کو ایک عبادت بنایا تھا مگر ہم نے اس کو تماشہ بنا دیا ہے اسی لئے ہماری ازدواجی زندگی تباہ وبرباد ہوچکی ہے اور کیونکر برباد نہ ہو جس کو شریعت نے ہمارے دین کا حصہ بنایا ہم نے اسے بزنس بناکر نبیِ مدنیﷺ کی سنتوں کو چھوڑا اللّٰہ کے بندے اور بندیوں کا دل توڑا اور اپنے پیارے اللّٰہ کو ناراض کرلیا ایسے میں بھلا شادی کے مقاصد اور برکتیں ہمیں کیسے میسر ہوں
شریعتِ محمدیﷺ نے شادی میں چھ اعمال رکھا ہے جن میں سے دو اعمال فرض ہیں (ایجاب وقبول اور دوگواہ) اور ایک واجب ہے وہ ہے (مہر) اور تین اعمال سنت ہیں (خطبۂ نکاح تقسیمِ چھوہارے اور ولیمہ) ان چھ اعمال کے علاوہ ہم جو بھی کرتے ہیں وہ غیر شرعی رسم ورواج اور خرافات ہیں
ہم اپنی شادیوں کو سادی بنائیں کیونکہ فرمانِ نبویﷺ ہے (النکاح برکة ایسرہ مئونة) کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہوا ہو اگر ہم اپنی شادیاں شریعت وسنت کے موافق کرینگے تو نکاح کرنا سب کے لئے آسان ہوگا اور خوب جان لیں کہ جس سوسائٹی اور معاشرے میں نکاح آسان ہوگا وہاں زنا مشکل ہوگا اور جہاں نکاح مشکل ہوگا وہاں زنا آسان ہوگا
محترم قارئين! آئیے اب ہم اپنے حالات وسماج کا جائزہ لیتے ہیں پیغامِ رشتہ بھیجنے سے پہلے اجینٹ کے طور پر ایک دلال (اگوا) ہم چنتے ہیں جو ساری سیٹنگ اور ڈیلنگ کرتا ہے کہ نقدی کتنا ہونا چاہئے اور سامانِ جہیز اور انتظامات کیا کیا اور کیسے ہونا چاہئے میرے اسلامی بھائیوں یہ بزنس اور کاروبار نہیں تو پھر کیا ہے؟
اور بعض حضرات مطالبات تو نہیں کرتے لیکن بوقتِ نکاح انٹرنیشنل فقیر ضرور بن جاتے ہیں اور بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے ہیں کہ ہم نے مطالبے تھوڑے ہی کیا تھا وہ تو چلتے چلتے لڑکی والوں نے بطورِ نذرانہ اور ہدیہ دیا ہے میرے بھائیوں ہرشئ کا ایک وقت ہوتا ہے یہ بھی ویسے ہی ناجائز اور حرام ہے جیسے مطالبات کرکے لینا ناجائز اور حرام ہے کیوں کہ بعثتِ نبویﷺ سے قبل یہ برائی اہلِ عرب میں بھی تھی لیکن اس وقت لڑکے والے لڑکی والوں کو دیتے تھے اس نیت اور ارادے کے ساتھ کہ جس کی بہن یا بیٹی کو ہم لے جارہے ہیں اس کی کچھ دلجوئی ہوجائےگی آپﷺ نے فرمایا کہ قبلِ نکاح یا بوقتِ نکاح کچھ بھی لینا دینا رشوت ہے اور رشوت اسلام میں حرام ہے
اس لئے آئیے آج سے ہم عہد کرلیں کہ ان شآء اللّٰہ ہم اپنی شادیوں کو سادی بنائیں گے اور تلک وجہیز کی لعنت کو ہم اپنے سماج اور معاشرے سے ختم کرکے اپنے روٹھے رب کو منائیں گے
اللّٰہ ہمیں شریعت وسنت کے ساتھ برکت وعافیت والی زندگی نصیب فرمائے (آمین)
طالبِ دعا! رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

Allah hamein shaadi sadi karni ki tofeeq bakhshe
جواب دیںحذف کریںالله رب العزت تمام امت مسلمه کو اس برایء سے مامون رکھے :آمین
حذف کریںاشرف علی
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںبہت خوب بہت نافع
برکت والی زندگی اللہ نصیب فرماے
جواب دیںحذف کریںآمین
جواب دیںحذف کریں