ہماری اولاد نافرمان کیوں ہیں؟
﷽
حامدا ومصلیا امابعد
قارئینِ کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
اللّٰہ عزوجل کا ارشاد ہے (انما اموالکم واولادکم فتنة) تمہارے مال واولاد فتنہ ہیں یعنی امتحان وآزمائش کے سامان ہیں
دوستو! اولاد کا نافرمان ہونا ایک ایسی آگ ہے جو معاشرے میں بڑی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اور خاندان کی ٹوٹ پھوٹ بھائی بہنوں اور والدین سے بڑھتے ہوئے فاصلوں نے خاندانی ومعاشرتی زندگی کی جڑیں ہلاکر رکھ دی ہیں آخر ایسا کیوں ہے؟
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ سب دینی تعلیم سے دوری کا نتیجہ ہے تو یہ بات کلی طور پر بجا نہیں کیونکہ میں نے کئی تعلیم یافتہ دینی گھرانوں کو آپس میں دست وگریباں دیکھا ہے اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ سب جہالت کی وجہ سے ہے تو یہ وجہ بھی سوفیصد نہیں پائی جاتی کیونکہ کئی نوجوان دین ودنیا کی تعلیم سے بےبہرا ہوتے ہیں مگر محض اپنی خاندانی روایات وتربیت کی وجہ سے شام کو اپنے والدین کے قدم چوم رہے ہوتے ہیں
دراصل ہمارا برتاؤ ہمارا رویہ اور ہمارا لہجہ یہ سب وہ ہتھیار ہیں جو کسی کو بھی ہمارا تابع فرمان یا باغی بناسکتے ہیں
دوستو! ہم بیرونِ خانہ بڑے ہی باادب بااخلاق باکردار باعزت ڈیرےدار اور نواب بنے رہتے ہیں مگر اندرونِ خانہ اپنے گھروں میں ہمارا برتاؤ وہ نہیں ہوتا
جو عزت واکرام ہم باہر کے لوگوں کا کرتے ہیں وہ اپنے گھر والوں کا نہیں جبکہ فرمان نبویﷺ ہے (اکرموا اولادکم) کہ تم اپنی اولاد کا اکرام کرو شفقت ومحبت اکرام واحترام اور عزت دینا ایک ادھار ہے جو دینے والے کو ضرور ملتا ہے
ہم اپنے گھروں میں ڈسپلن اور سنجیدگی ومتانت کے نام پر ایک گھٹن والا ماحول پیدا کردیتے ہیں نتیجتاً بچے ہنسی مذاق اور کھیل کود کا ماحول تلاش کرتے کرتے کسی بےادب محفل کے جانشین جا ٹھہرتے ہیں
نیز ہم اپنی اولاد کو بچپن سے پالتے پوستے ہیں اور انکے بڑے ہونے پر شادی کراتے ہیں مگر شادی کے بعد ہمارا رویہ فوراً بدل جاتا ہے کیا ہم وہ باپ یا وہ ماں نہیں رہتے؟ جو قبلِ شادی تھے لیکن نہیں ہمارے اندر فوراً ایک روایتی سسر اور ساس والی روح عود کر آتی ہے اور پھر گھرانے مچھلی منڈی بن جاتے ہیں بیٹوں بیٹیوں اور بہوؤں یا ان کی اولادوں میں فرق روا رکھنا کہ کوئی اچھا کوئی برا کسی کو سینے سے لگانا اور کسی کو منہ تک نہ لگانا کوئی ہر گناہ کرکے بھی معصوم اور کوئی نیکی کے بعد بھی مجرم یہ انداز ایک ایسا خاموش زہر ہے جو ہم اپنے رویے سے اپنی اولاد اور اپنے گھروں کے اندر خود پھیلا رہے ہیں
مزید برآں اولاد کو پالنا اچھا نام رکھنا اچھی تعلیم وتربیت کا انتظام کرنا اور بلوغت کے بعد ان کی شادی کرنا ہماری شرعی ذمہ داری ہے ہمیں ہرصورت پوری کرنا ہے اگر نہیں کرینگے تو دنیا اور آخرت میں مجرم ٹھہرینگے بلکہ اللّٰہ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللّٰہ عزوجل یہ ذمہ داری ہمیں بحسن وخوبی نبھانے کی توفیق بخشے مگر کسی بھی موڑ پہ اس کو جتلانا اور احسان باور کرانا محبت کے بجائے نفرت پیدا کرتا ہے
یاد رکھیں! جس دن سے خاوند نے اپنے آپ کو آقا اور بیوی کو باندی سمجھنا چھوڑ دیا اور والدین نے خود کو بادشاہ اور اولاد کو غلام سمجھنا چھوڑ دیا آدھی لڑائیاں ختم ہوجائیں گی
اپنی سوچ ہم بڑوں والی بنائیں جس عمر میں مشیر ومددگار کی ضرورت ہوتی ہے اس عمر میں اولاد نافرمان ہوجائے تو بہت دکھ ہوتا ہے دونوں طرف ضبط وبرداشت کی ضرورت ہے اپنے رویوں اور لہجوں کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ گھروں اور خاندانوں کی آبادی زبان کے میٹھے بول اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں ہے
ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ فتنوں کا دور ہے اگر اپنی اولاد اور خاندان کو زمانے کے فتنوں سے بچانا ہے تو پیار ومحبت انصاف اور برداشت کا انداز اپنایا جائے اسی لئے احقر کہتا ہے کہ (اپنی اولاد کو دوست بناکر انہیں ایک اچھا انسان بنائیں قبل اس کے کہ برے لوگ دوست بناکر انہیں برا انسان بنادیں)
اللّٰہ رب العزت ہر اولاد کو والدین کی شفقت ومحبت اور ہر والدین کو اولاد کا سکھ نصیب فرمائے (آمین)
طالبِ دعا! رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

Masha Allah Bahut Naafe Mazmoon hai
جواب دیںحذف کریںBahut naafe mazmoon hai
جواب دیںحذف کریںبہت خوب
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںآمین
جواب دیںحذف کریںماشاء اللہ ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں