جوائنٹ فیملی رحمت یا زحمت؟
﷽
محترم قارئینِ کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
شریعتِ محمدیﷺ حیاتِ دنیوی کیلئے وہ ضابطۂ حیات ہے کہ جو بندۂ خدا بھی اس کو اپنائےگا وہ کامیاب وکامران ہوجائےگا
اس کے برعکس جو شخص بھی اس ضابطۂ حیات سے روگردانی کرےگا وہ دونوں جہان میں ناکام ونامراد ہوگا
(جوائنٹ فیملی ایک بہت بڑی نعمت ہے اگر شریعت کا پتہ ہو ورنہ ایک بہت بڑا عذاب ہے)
حیاتِ نبویؐ میں بیک وقت آپؐ کی نو بیبیاں موجود تھیں اور تنگیِ معیشت کے باوجود چولہے بھی نو تھے آخر کیوں؟
ہمارے جیسے نام نہاد دیندار اور دین بےزار لوگوں کو سمجھانے کیلئے لیکن ہائے افسوس کہ کبھی غلطی سے بھی ہمارا ذہن ہماری سوچ کی رسائی شریعتِ مطہرہ کے اس خوبصورت پیغام تک نہیں ہوتی ہم نے غیرمسلم بھائیوں کی تقلید میں اپنی ازدواجی زندگی کا بیڑہ غرق کررکھا ہے
آئیے سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں آج ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں
حضورِ پرنورﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرتِ فاطمہؓ کا نکاح حضرتِ علیؓ کے ساتھ کیا اور جانبین سے ذمّہ دار اور سرپرست آپؐ ہی تھے کیونکہ حضرتِ علیؓ بچپن سے ہی آپؐ ہی کی کفالت میں تھے
نکاح کے چند ایام یا چند ماہ بعد حضرتِ علیؓ نے کرایہ پر ایک مکان لیا اور پھر آپؓ بہن فاطمہؓ کو خانۂ نبیﷺ سے رخصت کراکر کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے
آپؐ وقتاً فوقتاً بیٹی اور داماد سے ملاقات کیلئے کرایہ کے مکان پر تشریف لے جاتے نبیؐ کی پڑوس میں ایک صحابئ رسولﷺ کا گھر خالی پڑا تھا کچھ دنوں بعد اس گھر کی صفائی کراکر انہوں نے حضرتِ علیؓ کو بطورِ ہدیہ پیش کردیا اس کے بعد حضرتِ علیؓ اور بہن فاطمہؓ آپؐ کے پڑوس میں رہنے لگے
دوستو! قابلِ غور بات یہ ہے کہ رسولِ مقبولﷺ نے داماد اور بیٹی کو کرایہ کے مکان میں رہنا گوارہ فرمایا (درآنحالیکہ آپؐ دونوں کے سرپرست وذمہ دار تھے) لیکن اپنے ساتھ نہیں رکھا آخر کیوں؟
آقائے مدنیﷺ نے ہمیں ایک بہت ہی خوبصورت پیغام دیا کہ جہاں تک ہوسکے اپنی اولاد کی پرسنل لائف کو پرسنل ہی رہنے دینا اور یہ شئ جوائنٹ فیملی میں مفقود ہے کیونکہ جس بچی یا خاتون کو ہم بہو بناکر اپنے گھر لاتے ہیں اس (بچی یا خاتون) پر خاوند سے زیادہ ساس سسر, نند اور نندوئی حضرات اپنا حق جتلانے اور حکم چلانے لگتے ہیں اور جانے والی (بعض بچیاں یا خواتین) بھی اپنے خاوند کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتی ہیں اس افراط وتفریط کی وجہ سے نزاع اور جھگڑوں کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر اکثر جوڑوں کی زندگیاں جہنم کدہ ہوکر تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں
مزاجِ شریعت نہ سمجھنے کی وجہ سے اکثر گھروں میں یہ آگ سلگ رہی ہے
اس لئے آپ جملہ قارئینِ کرام سے احقر دست بستہ عرض کرتا ہے کہ اگر خداوندِقدوس نے گنجائش دیا ہے تو آپ اپنی اولاد کیلئے بہو لانے سے پہلے اس کے لئے ایک الگ رہائش کا انتظام کریں پھر یہ کارخیر کریں
اور اگر وسعت نہیں ہے تو گھروں میں نبیِ کریمﷺ والی زندگی اپنائیں اور چشم پوشی اور عفوودرگزر سے رشتے نبھائیں کیونکہ گھروں کی آبادی زبان کے میٹھے بول اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں ہے اور خوب جان لیں کہ جوائنٹ فیملی میں اگرچہ ظاہری کچھ فوائد ہیں لیکن نقصانات زیادہ ہیں اور شریعت وسنت کا پاس ولحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے اگر ایک شخص کے دل کا قبلہ مغرب ہے تو دوسرے کا مشرق اور تیسرے کا شمال تو چوتھے کا جنوب اسی لئے احقر کہتا ہے کہ (جوائنٹ فیملی ایک نعمت ہے اگر شریعت وسنت کا پتہ ہو ورنہ ایک عذاب ہے)
اللّٰہ رب العزت ہمیں شریعت وسنت کے ساتھ ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی نصیب فرمائے (آمین)
دعاؤں کا طالب! رضوان اللّٰہ
خادم التدریس! مدرسہ انجمن اسلامیہ سلیم نگر رڑھیا مشرقی چمپارن بہار الہند

ماشاءاللہ بہت اچھا مضمون ہے
جواب دیںحذف کریںشکریہ! قاری صاحب
حذف کریںماشاللہ بہت خوب
حذف کریںماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںMarsha Allah
جواب دیںحذف کریںBahut Faedamand Mazmoon hai
Bahut Mofeed
جواب دیںحذف کریںAllah amal ki tofeeq de
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںماشاء الله اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین
جواب دیںحذف کریںبہت خوب
جواب دیںحذف کریںMasha allah
جواب دیںحذف کریںMasha Allah
جواب دیںحذف کریںAllah aulaad ko walidain ki shafqato mohabbat aur walidain ko aulaad ka sukh naseeb farmae Aameen
ماشاءاللہ بہت خوب بہت ہی عمدہ مضمون ہے
جواب دیںحذف کریںبڑا مسئلہ جوائنٹ فیملی کا ہے وہ پردہ کا کہ شرعی پردہ کا لحاظ نہیں رہتا ہے
دوسری بات ہر بات اور ہر کام میں اپنی دیوانی ،جٹھانی سے تقابل ہوتا ہے یعنی میرا خشم زیادہ کام کرتا یا زیادہ پیسے دیتا ہے اسلئے میں کیوں کام کروں دوسری کہتی میں کسی کی نوکرانی تھوری ہوں جو ہر کام کو کروں اگر بات پیسے دینے کی ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ جسکی جتنی کمائی ہوگی وہ وہی حساب سے دیگا اور بھی بہت سی خرابیاں ہے اور ایک فائدہ کے چکر میں کہ ہمارے ساری اولاد ایک رہ کر ہماری خدمت کرے اسی چکر میں والدین اپنے سر یہ یہ جرم لیتے ہین کہ فلاں کو زیادہ اہمیت دیتے ہین اور ہمیں حقیر سمجھتے جبکہ ایسی بات نہیں ہوتی بلکہ اسکے ساتھ یہ سلوک احساس ذمداری جگانے کی غرض سے ہوتاہے مگر یہی بات آگے چل کر اولاد کو نافرمان بنادیتی ہے اس لئے اولاد کی شادی کے بعد والدین کو چاہئے کہ اس کا چولہا الگ کردے اور اس کے ذمہلگا ئے کہ اتناتمکو ہمیں ہر مہینے دیتے رہنا ہے اس سے اس کے اندر ذمداری کا احساس بھی پیدا ہو گا اور گھر بھی خوش حال ہوگا اللہ ہمیں اور تمام کو ماں باپ کا فرمانبردار بنائے
الله تعالی تمام مسلمانان عالم کو حضور ص کےفرمان اور عمل پر عمل پیرا هونے کی توفیق مرحمت فرماےء"اور الله رب العزت بھایء صاحب کو کامیابی نصیب فرماےء جس جھنڑے کو لیکر چل پڑے ھے"
جواب دیںحذف کریں