بےگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ
حامدًا ومصلِّیًا امّا بعدُ حضراتِ قارئینِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ! تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں بھلی (اچھی) لگیں! مگر ہائے افسوس کہ ہم بطورِ عمل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ نکاح کراؤ ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں یعنی نکاح وشادی ہونا ہے زید کی اور اس کے لئے زوجہ (بیوی) پسند کریں گے اس کے اعزہ واقارب (اس کے رشتہ دار) وہ بھی مرد حضرات! العیاذُ باللّہِ خوب جان لیں کہ جس شخص کو شادی کرنا ہے اس کے علاوہ کسی بھی مرد کے لئے کسی بچی یا عورت کو دیکھنا اور پسند کرنا مذہبِ اسلام میں حرام ہے! اور ہم کس قدر بےغیرت اور بےشرم لوگ ہیں کہ اپنی بیٹی یا بہن کو غیر محارم مرد حضرات کے روبرو بیٹھا کر معائنہ کراتے ہیں اور بچی دیکھنے اور پسند کرنے کے واسطے جانے والے مرد حضرات نے تو گویا بے شرمی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ کسی کی بہن یا بیٹی کو اُٹھاکر بیٹھاکر، چلاکر پِھراکر، آنکھیں پھاڑے یوں گھور رہے ہوتے ہیں جیسے کسی کے لئے دلہن نہیں بلکہ اپنے لئے ...